The Thought That Kills
کچھ سال پہلے اس بات کا اندازہ تھا کہ ذہنی دبائو (Stress)اور ڈپریشن ( (Depressionزیادہ تر متعدی امراض کا سبب ہے۔ مگر اس سے بھی ذیادہ یہ کہ ذہنی دبائو اور ڈپریشن بہت سارے کینسر کا سبب بھی ہیں اور اس سلسلہ میں تحقیق کی ایک نئی جہت بھی وجود میں آئی ہے۔ جسے Psychoneuroimmunology) (کہتے ہیں کہ اس پر تحقیق کرے کہ ہماری سوچوں (Our Thoughts)مثلا ہمارا اعصابی نظام اور ہمارے دفاعی نظام میں کیا تعلق ہے سائنسدانوں نے کئی رابطے تلاش کر لئے ہیں کہ ہماری سوچوں اور ہمارے Immune Systemمیںکیا تعلق ہے

١۔یہ صحیح ہے کہ جب ہم دبائو کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم زیادہ مقدار میںAdrenalineخارج کرتا ہے جب یہ ذیادہ ہوتا ہے تو ہمارے جسم میں موجود توانائی کو حرکت میں لے آتا ہے۔ اور بھی صحیح ہے کہ جب Adrenalineکی مقدار بڑھتی ہے تو ہمارے جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور Lymphocytes کی طاقت اور تعداد میں کمی آجاتی ہے

٢۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا دماغ براہ راست ہمارے دفاعی نظام کے اعضاء کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ (جسے تلی ) (Spleen، تھائمس گلینڈ (Thymus )، لمف نوڈزLymph NodesاورBone Marrow)اور جب ہم ڈپریشن اور ذہنی دبائوStressکا شکار ہوتے ہیں تو ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

٣۔لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ اپنے ساتھ،باقی جسم اور ہمارے دفاعی نظام کے ساتھ جس ہارمون کے ذریعے بات کرتا ہے اسے Neuropeptidesکہتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا دفاعی نظام جس نظام کے تحت آپس میں بات کرتا ہے اسے (Interleukins)کہتے ہیں ۔ ہمارے دفاعی نظام کے سیلز میں Receptorsہوتے ہیں جوNeuropeptideکے پیغام کو نہ صرف وصول کرتے ہیں بلکہ اسکے مطابق عمل کرتے ہیں جب ہم خوش ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک قسم کا Neuropeptideخارج کرتا ہے۔ ہمارا دفاعی نظام کے سیل اس مخصوصNeuropeptideیاUp-Chemicals کو وصول کرتے ہیں اور ہمارا دماغی نظام مضبوط اور طاقتور ہو جاتا ہے لیکن جب ہم ذہنی دبائو/ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک مختلف Neuropeptideیا Down-Chemical خارج کرتا ہے اور اس مختلف ہارمون کیلئے ہمارے دفاعی نظام میں مختلف Recepterہوتے ہیں۔ جس کا دفاعی نظام پر براہ راست اثر یہ ہے کہ یہ اسے کمزور کر دیتا ہے
ریسرچ سے ثابت شدہ ہے کہ وہ لوگ جوسٹریس یا ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں (جو خفا ، نا امید ،بے پرواہ ہوتے ہیں)اس بات کے ذیادہ مواقع ہیں کہ وہ پہلے Heartاٹیک کے 18ماہ کے دوران دوسرے حملہ کا شکار ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YouTube
YouTube
Instagram
WhatsApp